ابنا: دھماکہ ابوالحسن اصفہاني روڈ کے قريب ہوا جس کے نتيجے ميں بس مکمل طور پر تباہ ہوگئي –سرکاري ذرائع نے ايک شخص کے شہادت کي تصديق کردي ہے-غير مصدقہ خبروں ميں کہا گيا دھماکے ميں پانچ افراد شہيد ہوئے ہيں- 19 افراد زخمي بتائے جاتے ہيں جنہيں کراچي کے جناح اسپتال منتقل کرديا گيا ہے-کمشنر کراچي روشن خان نے کہا ہے کہ دھماکہ ريموٹ کنٹرول ڈيوائس کے ذريعے کيا گيا ہے-دھماکہ اس قدر شديد تھاکہ اس کي آواز دور دور تک سني گئي-مذہبي سياسي رہنماؤں نے القدس ريلي ميں شرکت کے لئے جانے والوں کي بس ميں ہونے والے بم دھماکے کو صہیوني سازش قرار ديتے ہوئے اس ميں ملوث افراد کو فوري طور پر گرفتار کرنے کا حکم ديا ہے-واضح رہے کراچي ميں مرکزي القدس ريلي باني پاکستان قائد اعظم محمد علي جناح کے مزار سے نکالي جاتي ہے اور اس ميں شرکت کے لئے بڑي تعداد ميں لوگ شہر کے مختلف علاقوں سے نماز جمعہ کي ادائيگي کے بعد بسوں کے ذريعے جاتے ہيں-
بشکریہ از اردو ٹی وی ۔ آي آر
سوال یہ ہے کہ القدس کی آزادی کے لئے کوشاں افراد کو قتل کرنے والے کس کی خدمت کررہے ہیں؟ جو لوگ یوم القدس کا راستہ روکنا چاہتے ہیں وہ کس کے کارندے ہیں؟ کیا یوم القدس میں شرکت کے لئے جانے والے نوجوان روزہ داروں کو نشانہ بنانا اسلام کی خدمت ہے؟ اگر ہاں تو کیا اسرائیل اور یہودی ریاست اسلام ہے جس کے دشمنوں کو واجب القتل سمجھا جاتا ہے؟ کیا اب بھی مسلمانوں کے لئے اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ وہابی دہشت گردی اور صہیونیت ایک کی سکے کے دو رخ اور ایک ہی حلقے کی دو کڑیاں ہیں؟.......
/169